زینب کبری (سلام اللہ علیھا) اور عاشورا
 


امام موسی کاظم (ع)اور ہارون کا مناظرہ
امام کاظم (ع) فرماتے ہیں کہ ہارون نے مجھ سے کہا:آپ نے تمام لوگوں کو خواہ عالم ہو یا جاہل سب کو بتایا ہوا ہے کہ آپ کی نسبت رسول خدا (ص) کی طرف دے دے تاکہ سب کہہ دے : اے رسول خدا کے بیٹے۔جبکہ آپ لوگ علی ابنابیطالب (ع)کے بیٹے ہیں ۔ اور ہر اولاد کو اپنے باپ کی طرف نسبت دی جاتی ہے ۔اور پیامبر اسلام (ص) آپ کے نانا ہیں ۔
میں نے ہارون الرشید سے کہا: اگر پیامبر گرامی دوبارہ زندہ ہوجائے اور تجھ سے تیری بیٹی کا رشتہ مانگے تو کیا تو اپنی بیٹی کا عقد رسول اسلام (ص) کے ساتھ کرو گے یا نہیں؟
ہارون : سبحان اللہ ! کیوں نہیں ۔ بلکہ اس بارے میں سارے عرب اور عجم پر فخر کروں گا ۔
امام : میں نے ہارون سے کہا: لیکن پیامبر اسلام (ص) کبھی میری بیٹی کا رشتہ نہیں مانگیں گے ۔
ہارون : کیوں ؟
امام : کیونکہ انہوں نے مجھے جنا ہے اور میں ان کی اولاد میں سے ہوں۔
ہارون : احسنت یا موسیٰ ابن جعفر ! لیکن اس کی دلیل آپ قرآن سے پیش کریں ۔
امام نے آیۃ مباہلہ کی تلاوت فرمائی: فَمَنْ حَاجَّكَ فِيهِ مِن بَعْدِ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْاْ نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَ أَبْنَاءَكمُ‏ْ وَ نِسَاءَنَا وَ نِسَاءَكُمْ وَ أَنفُسَنَا وَ أَنفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتهَِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَتَ اللَّهِ عَلىَ الْكَذِبِين -1- ۔
آپ کے پاس علم آجانے کے بعد بھی اگر یہ لوگ (عیسیٰ کے بارے میں) آپ سے جھگڑا کریں تو آپ کہدیں: آؤ ہم اپنے بیٹوں کو بلاتے ہیں اورتم اپنے بیٹوں کو بلاؤ، ہم اپنی خواتین کو بلاتے ہیں اور تم اپنی عورتوں کوبلاؤ، ہم اپنے نفسوں کو بلاتے ہیں اور تم اپنے نفسوں کو بلاؤ، پھر دونوں فریق اللہ سے دعا کریں کہ جو جھوٹا ہو اس پر اللہ کی لعنت ہو۔
اس آیہ شریفہ میں صراحت کے ساتھ امام حسن اور امام حسین کو پیامبر (ص) نے اپنا بیٹا کہہ دیا ہے ۔ اس آیۃ کا کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ َ وَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَ يَعْقُوبَ كُلاًّ هَدَيْنَا وَ نُوحًا هَدَيْنَا مِن قَبْلُ وَ مِن ذُرِّيَّتِهِ دَاوُدَ وَ سُلَيْمَنَ وَ أَيُّوبَ وَ يُوسُفَ وَ مُوسىَ‏ وَ هَرُونَ وَ كَذَالِكَ نجَْزِى الْمُحْسِنِينَ وَ زَكَرِيَّا وَ يحَْيىَ‏ وَ عِيسىَ‏ وَ إِلْيَاسَ كلُ‏ٌّ مِّنَ الصَّالِحِينَ-2-۔
اور ہم نے ابراہیم کو اسحاق اور یعقوب عنایت کیے، سب کی رہنمائی بھی کی ۔ اور اس سے قبل ہم نے نوح کی رہنمائی کی تھی ۔اور ان کی اولاد میں سے داؤد، سلیمان، ایوب، یوسف، موسیٰ اور ہارون (ع)قرار دئے ۔ اور نیک لوگوں کو ہم اسی طرح جزا دیتے ہیں۔اور زکریا، یحییٰ، عیسیٰ اور الیاس، سب صالحین میں سے تھے ۔
اے ہارون ! یہ بتا کہ عیسی ٰ کا باپ کون تھا؟
ہارون : ان کا کوئی باپ نہیں تھا ۔
امام: پس عیسی (ع) ماں کی طرف سے خدا کے نبیوں میں شمار ہوتے ہیں۔اسی طرح ہمارا شماربھی نبی کی بیٹی فاطمہ زہرا (س) کی طرف سے نبی کی اولاد شمار ہوتے ہیں ۔

پدر گرامی
سیدالوصیین امیر المؤمنین علی ابن ابیطالب بن عبدالمطلب بن ہاشم ابن عبد مناف ہیں۔ جو ۱۳ رجب کو خانہ کعبہ میں پیدا ہوئے اوربروز جمعہ ۲۱ رمضان ۴۰ ہجری کومسجد کوفہ میں شہید کئے گئے ۔

میسر نگردد بہ کس این سعادت
بہ کعبہ ولادت بہ مسجد سعادت

والدہ گرامی
ام الائمہ سیدۃ النساء العالمین فاطمۃ الزہرا(س) آپ کی ماں ہیں ۔
اور آپ کی ولادت بعثت کے دوسرے سال ۲۰ جمادی الثانی کو ہوئی ۔

حضرت زینب (س) کی شخصیت اور عظمت
۱۔ آپ کا نام وحی کے ذریعے معین ہوا۔
۲۔ آپ رسول اللہ (ص)کی اولاد میں سے ہے ۔
۳۔ ان کی مصیبت میں رونا امام حسین (ع) پر رونے کے برابر ہے ۔
۴۔ جب بھی امام حسین (ع) کی خدمت میں جاتی تو آپ ان کی تعظیم کیلئے کھڑے ہوتے اور اپنی جگہ پر بٹھاتے تھے۔
علامہ محمد کاظم قزوینی لکھتے ہیں کہ زینب (ع) میں تمام شرافت و افتخار و عظمت کے اسباب پائے جاتے ہیں۔اگر قانون وراثت کے اعتبار سے دیکھا جائےتو آپ کی ماں کےسوا دنیا کی کوئی بھی خاتون کیلئے وہ شرافت حاصل نہیں۔ نانا کو دیکھیں تو سید المرسلین ، با با کو دیکھیں تو سید الوصیین، بھائیوں کو دیکھے تو سیدا شباب اہل الجنۃ ، اور ماں کو دیکھیں تو سیدۃ نساء العالمین۔
شاعر نے یوں آپ کاحسب و نسب بیان کیا ہے :
ھی زینب بنت النبی المؤتمن
ھی زینب ام المصائب والمحن
ھی بنت حیدر ۃ الوصی و فاطم
وھی الشقیقۃ للحسین والحسن

مشکلات اور سختیوں کے مقابلے میں صبر واستقامت اور خونخوار دشمنوں کےمقابلے میں شجاعت اور دلیری کا مظاہرہ کرنا آپ کی عظیم کرامتوں میں سے ہے ۔ اخلاق اور کردار کے اعتبار سے عطوفت اور مہربانی کا پیکر ،عصمت اور پاکدامنی کے اعتبار سے حیا و عفت کی مالکہ ہونا آپ کی شرافت اور عظمت کیلئے کافی ہے!
ذرا سوچیں کہ اگر یہ ساری صفات کسی خاتون میں جمع ہوجائیں تو اس کے بارے میں آپ کیا فیصلہ کریں گے؟!
چنانچہ زینب کبری (ع) نہضت کربلا میں بہت بڑی مسئولیت اپنے ذمے لی ہوئی تھی۔اپنی اس مسئولیت سے عہدہ برآ ہونے کیلئے بچپن ہی سے تلاش کر رہی تھی ۔ معصوم ہی کے دامن میں پرورش اور تربیت حاصل کر رہی تھی ۔
---------
1 ۔ آلعمران ۶۱۔
2 ۔ انعام ۸۴،۸۵

علم ومعرفت
زینب کبری ،رسول خدا (ص)کے شہر علم میں پیدا ہوئیں اور دروازہ علم کے دامن میں پرورش پائی اورحضرت زہرا(س) کے پاک سینہ سے تغذیہ حاصل کیں۔ اور ایک لمبی عمر دوامام بھائیوں کے ساتھ گذاریں ۔ اور انھوں نے آپ کو خوب تعلیم دی ۔ اس طرح زینب کبری آل محمد (ص) کے علوم اور فضائل سے مالامال ہوئیں ۔ یہی وجہ تھی سخت دشمنوں جیسے یزید بن معاویہ کو بھی اعتراف کرنا پڑا ۔ اور سید سجاد (ع)نے آپ کی شان میں فرمایا : انت بحمد اللہ عالمۃ غیر معلمۃ و فہمۃ غیر مفہمۃ ۔

زہد وعبادت
عبادت کے لحاظ سے اس قدر خدا کے ہاں عظمت والی تھیں کہ سانحہ کربلا کے بعد اسیری کی حالت میں جسمانی اور روحی طور پرسخت ترین شرایط میں بھی نماز شب ترک نہ ہوئی۔ جبکہ عام لوگوں کیلئے معمولی مصیبت یا حادثہ دیکھنے پر زندگی کانظام درہم برہم ہوجاتا ہے ۔ اور آپ کی زہد کی انتہا یہ تھی کہ اپنا کھانا بھی یتیموں کو دیتی اور خود بھوکی رہتی ؛جس کی وجہ سے بدن میں اتنا ضعف پیدا ہوگیا کہ نماز شب اٹھ کر پڑھنے سے عاجز آگئی ۔
زہد کا معنی یہی ہے کہ خدا کے خاطردنیا کی لذتوں کو ترک کرے ۔ بعض نے کہا ہے کہ لفظ ز،ھ،د یعنی زینت، ہواوہوس اور دنیا کا ترک کرنے کا نام زہد ہے ۔زہد کا مقام قناعت سے بھی بالا تر ہے ۔اور زہد کا بہت بڑا فائدہ ہے ۔ چنانچہ حدیث میں آیا ہے : وَ مَنْ زَهِدَ فِي الدُّنْيَا أَثْبَتَ اللَّهُ الْحِكْمَةَ فِي قَلْبِهِ وَ أَنْطَقَ بِهَا لِسَانَهُ وَ بَصَّرَهُ عُيُوبَ الدُّنْيَا دَاءَهَا وَ دَوَاءَهَا وَ أَخْرَجَهُ مِنَ الدُّنْيَا سَالِماً إِلَى دَارِ السَّلَامِ-1-۔
یعنی جو بھی ارادہ کرے کہ خدا اسے علم دے بغیر سیکھے ؛ اور ہدایت دے بغیر کسی ہدایت کرنے والے کے؛ تو اسے چاہئے کہ وہ دنیا میں زہد کو اپنا پیشہ قرار دے ۔اور جو بھی دنیا میں زہد اختیار کرے گا ؛ خدا تعالی اس کے دل میں حکمت ڈال دے گا ۔اور اس حکمت کے ذریعے اس کی زبان کھول دے گا ،اور دنیا کی بیماریوں اور اس کی دواؤں کو دکھائے گا ۔ اور اس دنیا سے اسے صحیح و سالم وادی سلام کی طرف اٹھائے گا۔
عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ خَيْراً زَهَّدَهُ فِي الدُّنْيَا وَ فَقَّهَهُ فِي الدِّينِ وَ بَصَّرَهُ عُيُوبَهَا وَ مَنْ أُوتِيَهُنَّ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرَ الدُّنْيَا وَ الْآخِرَة-2- ۔
یعنی جب خدا تعالی کسی کو دنیا و آخر ت کی نیکی دینا چاہتا ہے تو اسے دنیا میں زاہد اور دین میں فقیہ بنا دیتا ہے اور اپنے عیوب کو اسے دکھا دیتا ہے ۔ اور جس کو بھی یہ نصیب ہو جائے، اسے دنیا و آخرت کی خیر و خوبی عطا ہوئی ہے ۔
حدیث قدسی میں مذکور ہے :أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ فِي بَعْضِ كُتُبِهِ يَا ابْنَ آدَمَ أَنَا حَيٌّ لَا أَمُوتُ أَطِعْنِي فِيمَا أَمَرْتُكَ حَتَّى أَجْعَلَكَ حَيّاً لَا تَمُوتُ يَا ابْنَ آدَمَ أَنَا أَقُولُ لِلشَّيْ‏ءِ كُنْ فَيَكُونُ أَطِعْنِي فِيمَا أَمَرْتُكَ أَجْعَلْكَ تَقُولُ لِلشَّيْ‏ءِ كُنْ فَيَكُونُ -3-
اے فرزند آدم !میں زندہ ہوں جس کیلئے موت نہیں ، جن چیزوں کا میں تجھے حکم دوں گا ان میں تو میری اطاعت کرو تاکہ میں تجھے بھی اپنی طرح ایسی زندگی دوں کہ تو نہ مرے ، اے فرزند آدم جو کچھ کہتا ہوں ہوجاؤ تو ہوجاتا ہے ۔ اگر تو چاہے کہ تو جو کچھ کہے ہوجائے ؛ تو میں جوکچھ تجھے حکم دونگا اس پر عمل کرو ۔
زینب کبری (س) بھی اپنی عبادت اور بندہ گی ،زہد وتقوی اور اطاعت خدا کی وجہ سے ان تمام روایتوں کا مصدا ق اتم اور ولایت تکوینی کی مالکہ تھیں۔ چنانچہ روایت میں آئی ہے کہ دربار شام میں خطبہ دینے سے پہلے بہت شور وغل تھا، انھیں خاموش کرنا ہر کسی کی بس کی بات نہ تھی ۔ لیکن جب آپ نے حکم دیا کہ خاموش ہوجاؤ؛ تو لوگوں کے سینے میں سانسیں رہ گئیں۔ اور بات کرنے کی جرات نہ کرسکے۔
معاشرے کی اصلاح کیلئےامام حسین (ع) نے ایک انوکھا اور نیا باب کھولا وہ یہ تھا کہ اپنے اس قیام اور نہضت کو دو مرحلے میں تقسیم کیا :

حدیث عشق دوباب است کربلا تاشام
یکی حسین رقم کردس و دیگری زینب(س)

پہلا مرحلہ خون، جہاد اور شہادت کا مرحلہ تھا ۔
دوسرا مرحلہ پیغام رسانی ، بیدار گری، خاطرات اور یادوں کو زندہ رکھنے کا مرحلہ ۔
پہلے مرحلے کیلئے جان نثاراور با وفا اصحاب کو انتخاب کیا ۔ اس طرح یہ ذمہ داری مردوں کو سونپی گئی ۔ جنہوں نے جس انداز میں اپنی اپنی ذمہ داری کو نبھایا؛ تاریخ انسانیت میں ان کی مثال نہیں ملتی۔ یہاں تک کہ سب بہ درجہ شہادت فائز ہوگئے۔
اب رہا ،دوسرا مرحلہ ،کہ جسے زینب کبری (س) کی قیادت میں خواتین اور بچوں کے حوالے کئے۔ جسے خواتین نے جناب سیدہ زینب (س) کی نگرانی میں اپنے انجام تک پہنچانا تھا ۔ اس عہدے کو سنبھالنے میں حضرت زینب (س) نے بھی کوئی کسر نہیں رکھی۔جناب محسن نقوی نے یوں اس کردار کی تصویر کشی کی ہے :

قدم قدم پر چراغ ایسے جلاگئی ہے علی کی بیٹی
یزیدیت کی ہر ایک سازش پہ چھا گئی ہے علی کی بیٹی

کہیں بھی ایوان ظلم تعمیر ہوسکے گا نہ اب جہاں میں
ستم کی بنیاد اس طرح سے ہلا گئی ہے علی کی بیٹی

نہ کوئی لشکر نہ سر پہ چادر مگر نہ جانے ہوا میں کیونکر
غرورظلم وستم کے پرزے اڑا گئی ہے علی کی بیٹی

پہن کے خاک شفاکا احرام سر برہنہ طواف کرکے
حسین! تیری لحد کو کعبہ بنا گئی ہے علی کی بیٹی

یقین نہ آئے تو کوفہ و شام کی فضاؤں سے پوچھ لینا
یزیدیت کے نقوش سارے مٹا گئی ہے علی کی بیٹی

ابد تلک اب نہ سر اٹھاکے چلے گا کوئی یزید زادہ
غرور شاہی کو خاک میں یوں ملا گئی ہے علی کی بیٹی -4-

زینب کبری (س) کو اس مسئولیت کیلیے تیار کرنا
اگرچہ زینب کبری (س) روحی اعتبار سے تحمل اور برداشت کی قدرت رکھتی تھیں ،لیکن پھر بھی یہ حادثہ اتنا دردناک اور مسئولیت اتنی سنگین تھی کہ آپ جیسی شیر دل خاتون کو بھی پہلے سے آمادہ گی کرنی پڑی ۔اسی لئے بچپن ہی سے ایسے عظیم سانحے کیلئے معصوم کے آغوش میں رہ کر اپنے آپ کو تیار کر رہی تھیں۔ چنانچہ رسول اللہ (ص) کی رحلت کے ایام نزدیک تھا ، آپ اپنے جد بزرگوار کی خدمت میں گئیں اور عرض کیا : اے رسول خدا (ص) کل رات میں نے خواب دیکھا کہ تند ہوا چلی جس کی وجہ سے پوری دنیا تاریک ہوجاتی ہے ۔ یہ تند ہوا مجھے ایک طرف سے دوسری طرف پہنچا دیتی ہے ،اچانک میری نظریں ایک تناور درخت پر پڑتی ہے ،تو میں اس درخت کے تلے پناہ لیتی ہوں ۔لیکن ہوا اس قدر تیز چلتی ہے کہ وہ درخت بھی ریشہ کن ہوجاتا ہے ۔ اور زمین پر گرتا ہے تو میں ایک مضبوط شاخ سے لپٹ کر پناہ لینے کی کوشش کرتی ہوں۔ لیکن ہوا اس شاخ کو بھی توڑ ڈالتی ہے ؛میں دوسری شاخ پکڑ کر پناہ لینے کی کوشش کرتی ہوں؛ اسے بھی توڑڈالتی ہے ۔سرانجام دو شاخیں ملی ہوئی ملتی ہے تو میں ان سے سہارا لیتی ہوں، لیکن ہوا ان دوشاخوں کو بھی توڑ ڈالتی ہے ، اسوقت میں نیند سے بیدار ہوجاتی ہوں۔!
زینب کبری (س) کی باتوں کو سن کر پیامبر گرامی اسلام (ص)کے آنسو جاری ہوگئے۔ پھر فرمایا: اے نور نظر! وہ درخت آپ کے جد گرامی ہیں ؛ بہت جلد تند اور تیز ہوا اسے اجل کی طرف لے جائیگی۔اور پہلی شاخ آپ کے بابا اور دوسری شاخ آپ کی ماں زہرا(س) اور دو شاخیں جو ساتھ ملی ہوئی تھیں وہ آپ کے بھائی حسن اور حسین (ع)تھے ؛جن کی سوگ میں دنیا تاریک ہوجائے گی اور آپ کالے لباس زیب تن کریں گی-5-۔
چھ سال بھی پوری نہیں ہوئی تھی کہ جد گرامی (ص) کی رحلت کے سوگ میں بیٹھنی پڑی ، پھر تھوڑی ہی مدت کے بعد مادر گرامی (س) کی مصیبت ، اس کے بعد امام حسن مجتبی اور امام حسین مظلومکربلا (ع) کی مصیبت برداشت کرنی پڑی ۔
جب مدینے سے مکہ ،مکہ سے عراق ،عراق سے شام کی مسافرت کی تفصیلات بیان کی تو بغیر کسی چون وچرا اور پیشنہاد کے اپنے بھائی کے ساتھ جانے کیلئے تیار ہوجاتی ہیں۔ اور اپنے بھائی کے ساتھ اس سفر پر نکلتی ہیں۔ گویا ایسا لگتا ہے کہ کئی سال پہلے اس سفر کیلئے پیشن گوئی کی گئی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ آپ کی عقد نکاح میں بھی اپنے بھائی کے ساتھ سفر پر جانے کو مشروط قراردیا تھا-6-۔
اور جب قافلہ حسینی (ع)مدینے سے نکل رہا تھا ،عبداللہ بن جعفر الوداع کرنے آیا ، تو زینب کبری (س) نے کہا : اے عموزادہ عبداللہ! آپ میرے آقا ہو ۔اگر آپ اجازت نہ دے تو میں نہیں جاؤں گی ؛لیکن یہ یاد رکھنا کہ میں بھائی سے بچھڑ کر زندہ نہیں رہ سکونگی۔ تو جناب عبداللہ نے بھی اجازت دے دی اور آپ بھائی کے ساتھ سفر پر نکلی ۔
---------
1 ۔ من‏لايحضره‏الفقيه ، ج 4، ص410 ۔
2 ۔ الكافي ،ج2 ، ص130 ، باب ذم الدنيا و الزهد فيها۔
3 ۔ مستدرك‏الوسائل ،ج 11 ، ص258 ۔
4 ۔ محسن نقوی؛موج ادراک،ص ۱۴۲۔
5 ۔ ریاحین الشریعہ ،ج۳، ص۱۵۔
6 ۔ اندیشہ سیاسی عاشورا،ش۴،سال ۱۳۸۱۔